وکالت کے گرتے معیار کے پیش نظرچیف جسٹس کا سخت تبصرہ
رانچی، 17؍جولائی (ایس اونیوز/آ ئی این ایس انڈیا )ملک کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے وکالت کے پیشے میں غیر پیشہ ورانہ طرز عمل پر سختی سے پابندی لگانے پر زور دیا اور کہا کہ ایسے لوگوں کو وکالت کے پیشے سے ہمیشہ کے لیے نکال باہر کرنا چاہیے ۔جھارکھنڈ جوڈیشل اکیڈمی میں ایک سمپوزیم میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے وکالت کے پیشے میں بڑھتے ہوئے غیر پیشہ ورانہ طرز عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس پر سختی سے روک لگانے کی بات کہی۔چیف جسٹس نے کہاکہ غیر پیشہ ورانہ طرز عمل پر کسی بھی طرح کا رحم نہیں دکھانا چاہیے ۔ابھی اس طرح کے معاملات میں ہم کیا کرتے ہیں؟ صرف 6 ماہ یا ایک سال کے لیے انہیں معطل کر دیتے ہیں، لیکن اس سے کام نہیں چلے گا، ہمیں ایسے معاملات میں سخت ہونا پڑے گا۔انہیں اس پیشے سے ہی نکال باہر کریں۔انہیں دوبارہ وکالت کرنے کی اجازت نہ دیں۔اس طرح ایک گندی مچھلی پورے پیشے کو بدنام کر دیتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ملک میں وکالت کے پیشے کو بین الاقوامی سطح پر لے جانا ہے تو اس میں قابل، صاف شبیہ اور باصلاحیت لوگوں کو لانا ہو گا۔سمینار میں ہندوستان کے قانونی اداروں میں تعلیم کے معیار میں بہتری کے مسئلہ کو اٹھائے جانے پر ٹھاکر نے کہاکہ یہ تو ضروری ہے ہی لیکن اس سے کم ضروری غیر پیشہ ورانہ طرز عمل اختیار کرنے والوں کے خلاف سختی کرنا بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں وکالت کے پیشے میں تقریبا دو کروڑ لوگ ہوں گے، لیکن سوال اس بات کا ہے کہ ان میں سے کتنے لوگوں کی ہمیں ضرورت ہے؟۔ آخر کتنے لوگوں کو ہم اس پیشے میں رکھ سکتے ہیں؟ ۔جب ضرورت سے زیادہ بھیڑ ہو گی اور کام کی کمی ہوگی تو پھر غلط راستے اپنائے جائیں گے اوریہیں سے غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کی ابتداء ہوتی ہے۔